Prophet Muhammad (PBUH) – 1

By November 29, 2020 March 2nd, 2021 Prophet Muhammad (PBUH)

These six pieces of paper cut art depict various phases of the life of Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) spanning 63 years. This artwork was carried out by cutting golden and black colour paper and each of the six pieces is a full and complete depiction of a particular phase of his life. While selecting this topic for my projects I was fully cognizant of the challenges I might face as I had not lived in the blessed era of the Prophet (PBUH). However, I was satisfied when I felt that, my love for him and my faith in him did not require me to have lived with him in his era. Since faith in the unseen, (Allah, and His Prophet (PBUH)) is part of our overall faith, I tried to sketch the era of the Prophet (PBUH) by reading a few books on his life (Seerah). I have had this deep longing and desperate yearning of having been born in the lifetime of the Prophet (PBUH). I wish I had a dwelling next to his house. I crave to have participated in the battle of Uhud with him and then sacrificed my life defending him. Oh, had I been his slave, I would not have opted for freedom even if he desired so, a thousand times. I wish I had the honour of his acquaintance; I too would have become beautiful. Oh, I wish I had been a stone on his path; I would have seen him walk past.  But alas, this remained a dream, a longing that was not fulfilled. Thus, to quench the craving, I have always desired to paint this picture in the form of paper cut art.

In the first piece of this artwork (Prophet Muhammad PBUH-1) I have depicted a mountain in the centre. A path from it leads to a giant flower on the right. The mountain symbolizes the cave of Hira while the flower is an attempt to depict the persona of the Prophet (PBUH) whose existence brought fragrance to the universe. Indeed, the sun and the moon fade in front of the Prophet (PBUH). How can I liken him to the moon, the brightness of his face was more than that of a full moon?

In such an environment, where there are beautiful flowers, the birds are bound to come. In this artwork too, birds have been portrayed on the branches next to the flower. The birds symbolize the followers (Ummah) of Prophet Muhammad (PBUH),  who were shown the “straight path” (Sirat-ul-mustaqeem) by him. Two pillars, symbolizing the throne of Allah, the creator of the universe, the supreme power who is all seeing and all knowing, have been depicted at the top of this artwork. The lower part of the artwork shows some mountains of Arabia around which some sheep are grazing. It must be reiterated that all Prophets were shepherds and so was our Prophet Muhammad (PBUH). Undoubtedly, his poverty was of his own choice. Whenever we hear of indigence (Faqr) in this world, we think of hunger, misery, and poverty. We consider that a person experiencing indigence would not have clothes to cover his body, or food to satiate him and would be in a miserable shape because of sickness and ill health. But in the spiritual realm, Faqr is an enviable status. It is akin to being selfless and free from the pleasures of this world, and when a person attains this stage the whole universe piles up at his footsteps.

Under the flower in this artwork, I have shown a seal portraying the seal of prophethood. Since the seal in the actual artwork has been cut on golden paper, it appears as a black circles in the image above due to over exposure from camera flashlight.

We pray to Allah to show us the scenes that bring coolness to our eyes, to show us good and virtue for we want to stay away from the evil. Amen

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ زندگی کے مختلف ادوار کی 6 پیپر کٹنگ آرٹ میں مختصر منظر کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان 6 ادوار کی پیپر کٹنگ آرٹ میں منظر کشی توصیف احمد ڈاٹ کام پر 6 پراجیکٹ کی صورت میں دستیاب ہے۔ یہ تمام آرٹ ورک گولڈن اور بلیک ورق کو کاٹ کربنایا گیا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ زندگی کو 6 آرٹ ورک میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لیے ان 6 آرٹ پیس میں سے ہر ایک مکمل سٹوری اور واقعہ پیش کرتا ہے۔ اس موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ میں اُس زمانے میں موجود ہی نہیں تھا تو شاید منظر کشی کرنے میں کچھ دشواری پیش آئے۔ لیکن پھر یہ سوچ کر تسلی ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان ہم سے اُس دور میں موجود ہونے کا تقاضا ہی نہیں کرتا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان بالغیب ہمارے ایمان میں شامل ہے۔ اس لیے سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند واقعات پڑھ کراُس دور کا  تصور کرکے منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ باقی جو حسرت اور تشنگی ہے کہ کاش میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے جنم لیا ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے کے آس پاس کوئی کچا راستہ ہوتا۔ کاش احد میں شریک ہوتا  اور پھر باقی نہ بچا ہوتا۔ میں بھی ہوتا غلام کوئی۔لاکھ کہتا میں نہ رہا ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صحبت ملی ہوتی۔ میں بھی کتنا خوشنما ہوتا۔ رستہ ہوتا میں کاش مدینہ کا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا راستہ دیکھتا ہوتا۔  لیکن یہ حسرت ہی رہی اس تشنگی کو مٹانے کے لیے میری ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ اُس  سارے منظر نامے کو ایک آرٹ پیس کی شکل میں ترتیب دی جائے۔

پہلے آرٹ ورک  Prophet Muhammad PBUH-1   میں بالکل درمیان میں ایک پہاڑ دکھایا گیا ہے۔ جس کے بائیں سے دائیں کی طرف ایک سیدھا راستہ بڑے سائز کے روز فلاور سے جا کر ملتا ہے۔ یہاں سے پہاڑ سے مراد غار حرا اورقد آدم روز فلاور یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کے وجود سے یہ کائنات معطر ہوئی۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے سامنے چاند اور ستاروں کی روشنی بھی ماند پڑجاتی تھی۔  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو چاند سے دوں تشبیہ کا آسرا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  خود ہی چاند ہیں تو چاند سا کیا؟

اسی ماحول میں جہاں خوبصورت پھول ہو وہاں پرندے تو آہی جاتے ہیں۔ اس آرٹ ورک میں بھی پھول کے ساتھ ٹہنیوں پہ پرندے دکھائے گئے ہیں جن سے مراد اُمت محمدیہ ہے۔ جن کو صراط مستقیم دکھانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  مبعوث ہوئے۔ اس آرٹ ورک میں سب سے اوپر آسمان کی طرف دو پلرز دکھائے گئے ہیں کہ اس پوری کائنات کے اوپر ایک سپریم پاور بھی موجود ہے جو ہر وقت دیکھ رہا ہے اور ہر چیزاُس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس آرٹ ورک میں سب سے نیچے عرب کے کچھ پہاڑ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔جس پر کچھ بکریاں گھاس چرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ یاد رکھیں بکریاں چرانا ہر نبی کی سُنت رہی ہے۔ اور اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی چند قیراط کی اجرت پہ بکریاں چرائی ہیں۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فقر اختیاری تھا۔ہمارے ہاں بکریاں چرانا اور فقر کا نام سنتے ہی فاقہ مستی، تنگدستی اور غریبی کا تصور آتا ہے۔ کہ فقیر ایسا شخص ہوتا ہے کہ جس کے تن کے اوپر ڈھنگ کے کپڑے نہ ہوں، بیماری اور بھوک سے برا حال ہو۔ مگر  ” روحانی ” کائنات میں فقر ایک قابل رشک مرتبے کا نام ہے۔ روحانی دنیا میں بے نیازی، استغنا اور دنیاوی لزتوں سے بے نیاز ہونے کا نام فقر ہے۔ اور جب انسان اس مرتبے پر پہچتا ہے تو پھر ساری کائنات اس کے قدموں میں ڈھیر ہوجاتی ہے۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو یہ پہاڑ سونے کے ہوکر ہمارے ہم رکاب چلیں۔ اس لیے بکریاں چرانے سے مراد یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غریب تھے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا فقر اختیاری تھا۔ اسی آرٹ ورک میں پھول کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی مہر مبارک یعنی مہر نبوت دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ گولڈن پیپر پہ مہر نبوت کا کام کیا گیا تھا اس لیے تصویر بناتے وقت کیمرے کے فلیش کی وجہ سے سیاہ رنگ نمایاں نظر آرہا ہے۔ جبکہ مہر نبوت کو ہارڈ کاپی میں گولڈن ورق پر مہر نبوت کا دیدار کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہماری آنکھوں کو خیرا کرنے والے مناظر دکھائے۔ یا اللہ ہم نیکی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں شر سے محفوظ رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔

Credit : ظهير أحمد چوہدری 

تصور هذه القطعة الفنية الورقية المراحل الست المختلفة من حياة النبي محمد (صلى الله عليه وسلم) التي امتدت إلى 63 عامًا. تم تنفيذ هذا العمل الفني عن طريق قص الورق الملون الذهبي والأسود وتمثل كل قطعة من القطع الست تصوير كامل لمرحلة معينة من حياته.
لقد كنت مدركًا تمامًا للتحديات التي قد أواجهها أثناء اختيار هذا الموضوع لمشروعاتي لأنني لم أعش في العصر المبارك للنبي صلى الله عليه وسلم. لكنني شعرت بالرضا عندما أحسست  أن حبي له وإيماني به لم يتطلب مني العيش معه في عصره وبما أن الإيمان (بالله وبرسوله صلى الله عليه وسلم) الغيبي هو جزء من إيماننا العام ، فقد حاولت أن أرسم عهد النبي صلى الله عليه وسلم بقراءة بعض الكتب عن حياته (السيرة). لقد كان لدي شوق عميق وأمنية بائسة لو أنني ولدت في حياة الرسول صلى الله عليه وسلم. أتمنى لو كان لدي مسكن بجوار منزله. أتلهف لو أني أشتركت معه في غزوة أحد ثم ضحيت بحياتي دفاعاً عنه. أحبه حتى أني لو أني كنت عبدًا عنده ، لما اخترت الحرية حتى لو أراد لي ذلك  ألف مرة. أتمنى لو كان لي شرف أحد معارفه ؛لكان نالني نصيب من الجمال. يا ليتني كنت حجرًا في طريقه لكي أراه يمشي بجواري. لكن للأسف ، ظل هذا حلمًا ، شوقًا لم يتحقق. وبالتالي ، لإخماد الرغبة ، كنت أرغب دائمًا في رسم هذه الصورة على شكل فن الورق المقطع.

في أول قطعة من هذا العمل الفني (النبي محمد عليه الصلاة والسلام -1) صورت جبلًا في المنتصف. طريق منه يؤدي إلى زهرة عملاقة على اليمين. يرمز الجبل إلى غار حراء بينما الزهرة هي محاولة لتصوير شخصية الرسول صلى الله عليه وسلم الذي جلب وجوده العطر إلى الكون بل إن الشمس والقمر ليذبلان أمام النبي صلى الله عليه وسلم فكيف أشبهه بالقمر، فلقد كان بريق وجهه أكثر لمعانا من البدر؟

في مثل هذه البيئة حيث توجد أزهار جميلة ، لا بد أن تأتي الطيور. كذلك في هذا العمل الفني أيضًا ، تم تصوير الطيور على الأغصان المجاورة للزهرة. الطيور ترمز إلى أتباع (أمة) النبي محمد (صلى الله عليه وسلم) ، الذين أظهر لهم “الصراط المستقيم”.
لقد تم تصوير ركيزتين أو ركنين في الجزء العلوي من هذا العمل الفني ، ترمزان إلى عرش الله ، خالق الكون ، والقوة العليا التي ترى الجميع وتعلم كل شي. أما الجزء السفلي من العمل الفني فيُظهر بعض الجبال في شبه الجزيرة العربية حيث ترعى بعض الأغنام حولها. ولا بد من إعادة التأكيد على أن الأنبياء جميعًا كانوا رعاة وكذلك نبينا محمد صلى الله عليه وسلم.
مما لا شك فيه أن فقره كان من اختياره و كان فقرا روحانيا وليس ماديا فكلما سمعنا بالعوز في الدنيا نفكر بالجوع والبؤس والفقر. ونعتبر أن من يعاني من العوز ليس لديه ملابس تغطي جسده أو طعام يشبعه ويكون في حالة بائسة بسبب المرض واعتلال الصحة. لكن في المجال الروحي ، فإن الفقّر مكانة تُحسد عليها. إنه أقرب إلى أن تكون غير أناني ومتحرر من ملذات هذا العالم ، وعندما يبلغ الشخص هذه المرحلة ، فإن الكون كله يتراكم على خطاه.

تحت الزهرة في هذا العمل الفني ، أظهرت ختمًا يصور ختم النبوة. نظرًا لأنه تم قطع الختم في العمل الفني الفعلي على ورق ذهبي ، فإنه يظهر على شكل دوائر سوداء في الصورة أعلاه بسبب التعرض للاضاءة الزائدة من مصباح الكاميرا.

نسأل الله أن يطلعنا على المشاهد التي تجلب الطمأنينة إلى أعيننا وليبين لنا الخير والفضيلة لكي نبتعد عن كل شر. آمين

admin

Author admin

More posts by admin