Prophet Muhammad (PBUH) – 2

By November 29, 2020 March 2nd, 2021 Prophet Muhammad (PBUH)

These six pieces of paper cut art depict various phases of the life of Prophet Muhammad (Peace be Upon Him) spanning 63 years. This artwork was carried out by cutting golden and black colour paper and each of the six pieces is a full and complete depiction of a particular phase of his life.

The topic of this second artwork is the Prophet’s (PBUH) Night Journey or the ascension to the heavens. In Arabic the term used for this particular journey is Isra and Miraj, where Isra means night and Miraj means a ladder. It is important here to give a brief context of the Night Journey before to understand this artwork.

The Night Journey occurred eleven years after the Muhammad (PBUH) declared his prophethood. This ascension was in fact physical in nature whereby the Prophet (PBUH) travelled from Makkah to Jerusalem and then and then to the Heavens and back in one night. Some people differ with the physical nature of this journey and wonder how such a long journey could be completed in one night. However, it is important to remember that, even though the story of ascension might sound very strange, God the Almighty is all powerful and does not need provisions or resources to do anything. All He has is to say is “Kun” (Be) and ‘it is’ in the blink of an eye. Allah the Almighty says that the purpose of this Night Journey was to show miracles and great signs to his slave, the Prophet Muhammad (PBUH). One of these miracles is the completion of such a long journey in just a part of a night. The Prophet (PBUH) ascended through the seven Heavens, meeting various prophets at each level, and finally meeting Allah the Almighty at the Tree (Sidrat-ul-Muntaha) which is on the seventh heaven just below God’s throne.

This artwork is in continuation to the previous one where the path originating from the Cave of Hira also leads to the Night Journey and is depicted by the footsteps of the blessed Prophet (PBUH). In the centre is shown an animal, a horse with wings known as Burraq, which was Prophet’s (PBUH) transport in this journey. Above Burraq are seven semicircles, each portraying a Heaven that the Prophet (PBUH) visited. The prophets he met in this journey on each Heaven are mentioned in golden paper. The drawing pattern of each Heaven is unique so that each looks prominent and beautiful.

Above the Heavens on the left side is written one of the names of Allah the Almighty. This name or attribute, The Possessor of Glory and Honour, Lord of Majesty and Generosity (Arabic: Zul Jalal-e-wal-ikram), is one of the 99 names of Allah the Almighty. The Prophet (PBUH) was gifted with the five times obligatory prayers (Salah) during this Night Journey. This is mentioned in the 45th verse of Chapter Al-Ankabut and hence this verse has been written in this artwork around the great attribute of Allah the Almighty, portraying the fact that the Majestic and Generous Lord gifted us with the obligatory prayers to remember him and be a means to meet him.

On the right side of the artwork is the 107th verse of the Chapter Al-Anbia which describes one of the attributes of the Prophet (PBUH). Allah the Almighty says, “We have not sent you ˹O Prophet˺ except as a mercy for all the worlds.” The artwork depicts two footsteps of the Prophet (PBUH). Burraq and the Seven Heavens is glittered with stars and galaxies. The bottom part of the artwork portrays the mountains and deserts of Arabia where the sheep are grazing. The well of Zam Zam is depicted in the right and will be portrayed in more detail in the next piece of this series of artworks.

We pray to Allah the Almighty to show us the scenes that bring coolness to our eyes, to show us good and virtue for we want to stay away from the evil. Amen

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی 63 سالہ زندگی کے مختلف ادوار کی 6 پیپر کٹنگ آرٹ میں مختصر منظر کشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان 6 ادوار کی پیپر کٹنگ آرٹ کی صورت میں منظر کشی توصیف احمد ڈاٹ کام پر 6 پراجیکٹ کی صورت میں دستیاب ہے۔ یہ تمام آرٹ ورک گولڈن اور بلیک ورق کو کاٹ کربنایا گیا ہے ۔ ان 6 آرٹ پیس میں سے ہر آرٹ پیس ایک مکمل سٹوری اور واقعہ پیش کرتا ہے ۔ دوسرے  آرٹ ورک کا موضوع ہے اسریٰ و معراج شریف ۔ اسریٰ کا معنی ہوتا ہے رات کو لےجانا ۔ اور معراج یعنی سیڑھی ۔

معراج شریف کا واقعہ نبوت کے گیاروین سال کا ہے ۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ سفر معراج جسمانی سفر تھا ۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اشکال ہے کہ اتنا لمبا سفر ایک ہی رات میں کیسے طے ہوگیا ؟ یاد رکھیں لوگوں کے نزدیک ظاہری اسباب کے اعتبار سے یہ واقعہ کتنا ہی محال کیوں نہ ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے یہ مشکل نہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ۔اللہ تعالیٰ  لفظ   کُن کہنے پلک جھپکتے ہی سب کچھ کرنے پہ قادر ہے ۔ اسباب تو انسانوں کے لیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پابندیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ معراج شریف کے سفر کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنے بندے کو عجائبات اور آیات کبریٰ دکھائیں ۔جن میں سے ایک آیت یعنی نشانی یہ بھی ہے کہ اتنا طویل سفر رات کے قلیل حصے میں ہی ہوگیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج ہوئی آسمانوں پہ لیجایا گیا وہاں مختلف آسمانوں پر انبیائ کرام سے ملاقاتیں ہوئی ۔ اور سدرۃ المنتہی پر جو ساتویں آسمان پر عرش سے نیچے ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نماز اور دیگر بعض چیزیں عطافرمائی ۔  چلیں موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔ پچھلے آرٹ ورک میں غار حراسے جو راستہ نکل رہا تھا اُسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسریٰ اور معراج شریف تک وہی راستہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کہاں سے چلے اور کس معراج یعنی بلندی تک پہنچے ۔ درمیان میں براق کو پروں والے گھوڑے کی شکل میں دکھایا گیا ہے ۔ براق کے اوپر سرکل کی شکل میں سات قوسیں دکھائی گئی ہیں جو سات آسمانوں کی غمازی کرتی ہیں ۔ اور ان سات آسمانوں پر جس جس پیغمبر سے آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ملاقات ہوئی وہ بھی درمیان میں گولڈن پیپر میں ظاہر کی گئی ہیں ۔  چونکہ انبیائ کے ناموں کا آرٹ ورک گولڈن پیپر پہ کیاگیا تھا  اس لیے تصویر بناتے وقت کیمرے کے فلیش کی وجہ سے سیاہ رنگ نمایاں نظر آرہا ہے ۔ جبکہ سات آسمانوں پر انبیائ کے ناموں کا آرٹ ورک ہارڈ کاپی میں گولڈن ورق پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ ہر آسمان کو پیٹرن اس نظریے سے مختلف رکھا گیا ہے تا کہ ہر آسمان زیادہ سے زیادہ نمایاں اور خوبصورت نظر آئے ۔ آسمان کے اوپر ایک طرف اللہ تعالیٰ کا نام ذوالجلال والاکرام دکھایا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ پیارا نام اسمائ الحسنی بھی کہلاتا ہے ۔ اور سورۃ الرحمن کی آخری آیت میں بھی اللہ تعا لیٰ کے اس اسمائ الحسنی کا ذکر کیا گیا ہے کہ تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے اور عزت و جلال والا ہے ۔ یعنی اندازہ لگا لیں کہ جونام اتنا بلندی اور عزت والا ہے وہ ذات خود کتنی بلندی اور عزت والی ہوگی ۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کا تحفہ دیاگیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کے نام کے گرد سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر 45 بھی نمایاں کی گئی ہے ۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشائ والمنکر ۔ اس کے بعد ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی ایک صفت جو کہ قرآن مجیدسورۃ الانبیاء کی آیت 107 میں بیان کی گئی ہے کہ!

 وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین ۔بے شک آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکربھیجے گئے ہیں ۔ براق کے نیچے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو نعلین شریف دکھائے گئے ہیں ۔ چونکہ یہ سارا سفر رات کا تھا اس لیے سات آسمانوں کے درمیان براق کا سفری راستہ ستاروں اور کہکشائوں سے سجایا گیا ہے ۔  سب سے نیچے وہی عرب کے پہاڑ وں کا تسلسل برقرار رکھا گیا ہے  ۔جس پر کچھ بکریاں گھاس چرتی ہوئی نظر آرہی ہیں ۔ اس کے دائیں طرف آب زم زم کی عکاسی کی گئی ہے ۔ آب زم کا منظر نامہ تیسرے آرٹ پیس میں مزید واضح ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہماری آنکھوں کو خیرا کرنے والے مناظر دکھائے ۔ یا اللہ ہم نیکی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں شر سے محفوظ رکھ ۔ آمین یا رب العالمین

Credit : ظهير أحمد چوہدری 

admin

Author admin

More posts by admin